کوچی، 13؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) سمجھا جارہا تھا کہ شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کو اذان پر اعتراض ہے، پھر نماز پر اعتراض کیا جانے لگا، مگر یہ سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، مسلمانوں کے گائے کا گوشت کھانے ، حلال گوشت کھانے، حجاب پہننے، تین طلاق، یہاں تک کہ مسلمانوں کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کامعاملہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ تازہ اعتراض بچوں کے ختنہ کرنے کو لے کر کیا گیا ہے۔
میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق تبدیلی مذہب کیخلاف کام کرنے والوں کے ایک گروپ نے کیرلا ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوعمر مسلم بچوں کے ختنہ کی روایت میں فوری مداخلت کرے- مسلمان لڑکوں میں ایک سال کی عمر سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کا ختنہ کیا جاتا ہے جو بچوں کے حقوق کے خلاف ہے۔
درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے منظور کیے گئے شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ سبھی فریق بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ روایتی طریقوں کو ختم کرنے کے لیے تمام مؤثر اور مناسب اقدامات کریں گے- تمام فریق اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بچے کو اس کی رازداری، خاندانی گھر یا خط و کتابت میں من مانی یا غیر قانونی مداخلت کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اس کی ساکھ پر غیر قانونی حملہ کیا جائے گا۔
ان سب باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ ہندوستان ایک رکن اور دستخط کنندہ ہے اور ختنہ کا طریقہ کار اس میں کہی گئی باتوں کی خلاف ورزی ہے- درخواست میں کہا گیا ہےکہ بچوں کو ختنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور یہ ان کا اختیار نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے-
درخواست میں اس عمل کو ظالمانہ، غیر انسانی اور وحشیانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے چند شیر خوار بچوں کی موت بھی ہوئی ہے- درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ غیر علاج شدہ ختنہ کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اسے ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے اور اس کے خلاف ممانعت کا قانون بنایا جائے-دعویٰ کیا گیا ہےکہ مئی2018میں کیرلا کے وڈانپلی میں ایک بچے کی ختنہ کے بعد موت ہوگئی تھی-
درخواست میں متعدد وجوہات بھی دی گئیں ہیں کہ اس طریقہ کار پر پابندی کیوں لگائی جانی چاہئے- کہا گیا ہے کہ بچوں کے لیے یہ بچپن کا صدمہ ہوگا اور حیاتیاتی طور پر بھی یہ بچے کے مستقبل کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے- درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ غیر علاج شدہ ختنہ بچے کی جسمانی، جذباتی اور علمی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے-